عن الكتاب
مجاہدین کے لیے اہم نصائح اور حوصلہ شکنی کرنے والوں کا رد ( دوسرا حصہ ) شیخ ابو مصعب الزرقاوی رحمہ اللہ اے مجاہدو؛ غزوہ خندق میں مختلف لشکروں کے جمع ہونے پر شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے جو تبصرہ تحریر کیا ہے ،میں آپ کو پیش کرنے کےلیے اُس سے بہتر چیز نہیں پاتا،شیخ رحمہ اللہ نے فرمایا: (غزوه خندق کا مختصر قصہ یہ ہے کہ مسلمانوں پر ارد گرد کے اکثر مشرکین نے جمع ہو کر لشکر کشی کی، اپنے لشکروں کو لے کر مسلمانوں کی بیخ کنی کے لئے مدینہ آ وارد ہوئے ،چنانچہ قریش اور اُس کے اتحادی بنو اسد ، اجشع ، فزارہ اور نجد کے دیگر قبائل جمع ہوئے ،اِسی طرح بنو قریظہ اور بنو نضیر کے یہودی بهی اِن لشکروں کا حصہ بنے ،اِن تمام لشکروں کی تعداد مسلمانوں کی تعداد سے کئی گنا زیادہ تهی،چنانچہ نبی کریم ﷺ نے عورتوں اور بچوں کو مدینہ کے اونچے حصے میں پہنچا دیا۔ اور آج کے حالات میں(یعنی شیخ الاسلام کی وقت میں) دشمن یعنی مغل اور ترک قوم کی دیگرشاخیں، فارسی اور وہ قومیں جو عربی بن چکی ہیں اور اِن کے علاوه دیگر مرتدین جیسے ارمنی نصاریٰ وغیرہ یہ سب جمع ہو گئےہیں اوردیار المسلمین کے پاس ڈیرے ڈال دیےہیں۔یہ حملہ کرنے