عن الكتاب
دستورِ پاکستان کو سمجھنے کے لیے اس کتاب کا مطالعہ کجیئے۔ اگر کوئی شخص ما أنزل اللہ کی بجائے کسی اور قانون سے فیصلہ کرے اور اسے علم ہو کہ اس پر ما أنزل اللہ کے مطابق فیصلہ کرنا واجب ہے، اور وہ شریعت کی مخالفت کر رہا ہے، لیکن اس کے باوجود وہ حکم بغیر ما أنزل اللہ کو مباح سمجھتا ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں اور اس کیلئے اللہ کی شریعت کو چھوڑ کر بھی فیصلہ کرنا جائز ہے ۔۔۔ تو ایسا شخص تمام علماء کرام کے نزدیک کفر (اکبر) کا مرتکب ہے۔ جیسے کوئی شخص یہود ونصاریٰ کے وضعی قوانین سے فیصلہ کرے اور سمجھے کہ یہ جائز ہے، یا وضعی قوانین کو اسلامی قوانین سے افضل سمجھے یا انہیں اسلامی قوانین کے برابر سمجھے کہ انسان خود مختار ہے کہ اسلامی اور وضعی قوانین میں سے جسے چاہے اپنالے وغیرہ وغیرہ۔ تو ایسا اعتقاد رکھنے والا بالاجماع کافر ہے۔ جہاں تک ایسے شخص کا معاملہ ہے جو غیر ما أنزل اللہ کے مطابق فیصلہ خواہش نفسانی یا دنیاوی عاجلانہ مفادات کے تحت کرے اور وہ جانتا ہو کہ یہ اللہ اور اس کے رسولﷺ کی معصیت اور بڑا گناہ ہے اور اس پر شریعت کے مطابق فیصلہ کرنا ضروری تھا تو ایسا شخص گناہگار ہے، کبیرہ گناہ اور کفر اصغر کا