کرامات حضرت کرماں والے از سیٹھ محمد شفیع

کرامات حضرت کرماں والے از سیٹھ محمد شفیع

سنة النشر
1968 · المزيد من كتب هذا العقد

عن الكتاب

یہ کتاب حضرت کرماں والے کے لاڈلے مرید سیٹھ محمد شفیع مرحوم نے مرتب کی۔ حضرت کرماں والے نہایت خوش خلق' خوش ذوق' اخلاق حمیدہ اور اوصاف پسندیدہ کے مالک تھے۔ آپ کے پاس سبھی قسم کے لوگ آتے۔ کبھی کسی سے نہ سنا گیا کہ اس کی طرف توجہ نہیں ہوئی۔ اس کی ضرورت پوری نہیں ہوئی۔ بیشتر لوگوں کو حاجت بیان کرنے کی ضرورت ہی نہ پڑتی۔ بلکہ آپ اکثر دل کا حال پہلے معلوم کرلیتے۔ آپ کے کشف کے سامنے کوئی چیز پوشیدہ نہیں تھی۔ اس لئے غلط بیان کرنے والوں کو ناپسند فرماتے۔ آپ فرماتے مجھے لوگوں کے حالات کی جستجو اور تفتیش کی ضرورت نہیں بلکہ سچی بات بتانے سے اقرار گناہ کی شکل پیدا ہوتی ہے اور اقرار گناہ میں توبہ کا پہلو ہے۔ اخلاق و اعمال کی اصلاح کا انداز ایسا کریمانہ کہ کوئی نافرمانی پر قادر نہ ہوتا۔حضرت کرماں والے کو نمود و نمائش اور ریا کاری سے سخت نفرت تھی۔ دست بوسی یا پائوں کو چھونا سخت ناپسند تھا۔ حتیٰ کہ رسمی مصافحہ کے شائقین کو ڈانٹ ڈپٹ کر نصیحت فرماتے۔ مجلس میں آپ کی تشریف آوری پر کسی شخص کو تعظیماً کھڑاہونے کی اجازت نہ تھی۔ بڑے بڑے علماء مجلس میں آکر با ادب بیٹھتے اور بڑے پیجیدہ مسائل حل کرواتے۔ بدعقیدہ علماء بحث یا مناظر کے بغیر ہی راست راست پر آجاتے۔ آپ کا ہر کلمہ اور ہر ہر ادا بمطابق سنت مصطفیۖ ہوتی۔ جمعہ کے دن خطبہ خود فرماتے۔ جس کی اثر انگیزی سامعین میں حیرت انگیز ہوتی۔ وعظ و نصیت سے کوئی لمحہ خالی نہ گزرتا۔ آپ کی باتیں انتہائی حکیمانہ ہوتیں۔ اور اکثر دلوں پر اثر کرتیں۔ آپ نے کبھی تعویزات اور جھاڑ پھونک کا سہارا نہیں لیا بلکہ اکثر ایک جیسے مریضوں کو شہد' لسی' گلقند' مجھن' کھوی' گندم کا بھوسہ' لنگر کے بچے ہوئے ٹکڑوں' نماز پنجگانہ کی پابندی' درود پاک بکثرت پڑھنے اور داڑھی رکھنے کا نسخہ بتاتے  تو قدرت کاملہ سے حیرت انگیز تاثیر ظاہر ہوتی۔ ڈاکٹر سے مایوس مریضوں کو آپ رب کریم ی رحمت پر بھروسہ رکھنے کی تلقین کرتے۔

كتب من نفس الفترة (عقد 1960)

كتب أخرى من المكتبة