عن الكتاب
ازمنہ قدیم سے اس کرہ ارضی پر انسان کے دو گروہ رہے ہیں. ایک گروہ یہ سمجھتا آیا ہے کہ وہ خدا تک اپنے مراقبہ اور تپسیا کے ذریعے سے پہنچ سکتے ہیں. اس ذریعہ یا طریقہ کار میں انسانی روح کو دنیاوی قید و بندھن سے آزاد کرنا ہوتا ہے. الله تک رسائی کایہ عمل ازمنہ قدیم سے استعمال میں ہے اور ہم انکے کرنے والوں کو سادھو یا راہب کے نام سے جانتے ہیں اس سوچ کے خلاف ایک دوسرا گروہ بھی ہے جو یہ مانتا ہے کہ الله تک رسائی اس طرح نہیں ہو سکتی. الله ہمارا خالق اور پالنہار ہے لہذا ہدایت بھی اسی کی طرف سے آنی چاہیے. الله نے انبیاء و رسل کو انسانوں میں سے منتخب کیا اور ان پر وحی بھیجی ہے. اسلام، نصرانیت اور یہودیت اصلاً اس گروہ سے تعلّق رکھتے ہیں اسلام اصلاً ایک خالص توحیدی دین سے شروع ہوا لیکن یہودی، نصرانی، ہرمسی اور غناسطی سرّیت و تصوف سے متاثر ہوا. اس کتابچہ میں انہی لہروں کے امتزاج کا نقشہ پیش کیا گیا ہے. لہذا کتابچہ کا نام مجمع البحرین رکھا ہے یعنی وہ مقام جہاں دو سمندرآپس میں ٹکرائیں یا مل کر اپنی انفرادیت کھو بیٹھیں. جو بات قابل غور ہے وہ یہ ہے کہ اس امتزاج کی اصل وجہ شاید نقل اور س