عن الكتاب
کوثر النبی فی اصول الحدیث ((كوثر النبى صلى الله عليه وآله وسلم)): مولانا عبدالعزیز پرہاڑوی رحمتہ اللہ علیہ بلندپایہ عالم اور چشتیہ نظامیہ سلسلہ کے عالی مرتبہ شیخ طریقت تھے، زاہدانہ زندگی میں آپ اپنی مثال تھے۔ آپ کمال ذہانت اور رسوخ و وسعت علمی میں آیۃ من آیات اللہ کا درجہ رکھتے تھے۔ چنانچہ حلقۂ علماء میں محیر العقول افسانوی کردار کی طرح یاد کیے جاتے ہیں اور اب تک ان کی شخصیت کا سحر قائم ہے۔ آپ نے بہت سے مختلف النوع عنوانات پر لکھا اور نہایت دقت و تحقیق کے ساتھ لکھا ۔ جس موضوع پر قلم اٹھاتے گویا قلم توڑ کر رکھ دیتے تھے۔ ان کی ایک اہم کتاب ((کوثر النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) ہے، اس کے مقدمہ میں بطور تعارف لکھتے ہیں: ""فهذا كوثر النبي صلى الله عليه وآله وسلم وزلال حوضه الروي ..." اسی سے کتاب ((کوثر النبی)) کے نام سے مشہور ہوئی، نزهة الخواطر میں اس کا نام "کوثر النبی فی مصطلحات الحدیث و الموضوعات" درج ہے، اس سے واضح ہے کہ اس کتاب میں اصطلاحات کی وضاحت کے بعد موضوع روایات پر داد تحقیق دی گئی ہے۔ مگر جب اس کا حصہ اول یا زیادہ مناسب ہو گا کہ اسے مقدمۂ کتاب کا نام دیا جائے، شائع ہوا تو ناشر نے سرورق پر کتاب کا نام ((کوثر النبي صلی الله علیه وآلہ وسلم في أصول الحديث النبوي) جبکہ اندرون سرورق ((کوثر النبي صلى الله عليه وآله وسلم في الحديث النبوي صلى الله عليه وآله وسلم)) لكها۔ نام کے حوالے سے یہ دورنگی ناشرانہ تصرف کا شاخسانہ ہے۔ کتاب کے نام میں اس تصرف بیجا نے خود کتاب کی حیثیت اور تعارف کو بھی مجروح کیا اور یہ سمجھ لیا گیا کہ یہی مطبوعہ حصہ کل کتاب ہے اور کتاب کا موضوع اصول حدیث ہے، حالانکہ اصول و مصطلحات كے تذکرہ پر مشتمل یہ اشاعت صرف مقدمہ پر مشتمل ہے، یہی مقدمہ پہلے کتابت شدہ شائع ہوتا تھا اور میرے پاس بھی یہی کتابت شدہ طباعت کی کاپی ہے، اور اب اسے ہی کمپوز کر دیا گیا ہے، کتاب کا مکمل قلمی نسخہ کافی ضخیم اور کئی سو صفحات پر مشتمل ہے اور بہ طور مکمل کتاب کے ابھی تک غیر مطبوعہ ہے۔ وہ بھی ميرا دیکھا ہوا ہے، بلکہ میں نے 1987ء میں اس کے ایک قلمی نسخے کے کچھ حصے کا مطالعہ بھی کیا تھا اور اس کے دو تین صفحوں کا عکس بھی لیا تھا۔ اس میں حروف معجم کی ترتیب پر عنوان وار موضوع روایات پر بحث ہے اور بہت شاندار بحث ہے۔ اللہ کرے مکمل کتاب بھی خوبصورت طریقے پر زیور طباعت سے آراستہ ہو اور اہل ذوق کی آنکھیں