عن الكتاب
بسم الرحمن الرحيم عنقریب اللہ ہمیں اُنکی زمین اور گھروں کا وارث بنا دے گا ولایہ رقہ کے امیر عسکریِ عام سے انٹرویو رقہ شہر، جس کے اطراف میں معرکے مسلسل جاری ہیں اور جوکہ احدی الحسنیین (دو بھلائیوں میں سے ایک، یعنی شہادت یا فتح)کے طالبوں کیلئے کھلا میدان، اور مرتدین اور اُنکے حلیفوں کیلئے قبرستان بن چکا ہے۔ جوکوئی موصل کے معرکے کا مشاہدہ کرے گاتو وہ جان لے گا کہ رقہ کا معرکہ مرتدین اور اُنکے مددگاروں کیلئے محض حسرت وندامت ہی کا باعث بنے گا۔ کفار ارضِ اسلام میں سے ایک بالشت پر بھی اُس وقت تک پیش قدمی نہیں کرسکیں گے، جب تک اُنکی ماتم کرنے والیاں اُس خون پر خوب ماتم نہ کرلیں گی جو وہ صلیبی فوجیوں پر فداء ہوتے ہوئے بہائیں گے؛بالکل اُسی طرح جیسے موصل میں رافضیوں کا خون بہا۔ اور اِس صورت میں باِذن اللہ کفار کا کوئی گھر ایسا نہیں ہوگا جس میں سے گریہ وزاری کی آوازیں بلند نہ ہوں۔ ربّ تعالیٰ کی مدد اور اُسکی توفیق سے ہم نے رقہ شہر کے امیر عسکری عام کے ساتھ ایک مکالمہ منعقد کیا ہے جس سے مجلّہ رومیہ کے قارئین کو اِس معرکے میں ہمارے بھائیوں کے حالات کے بارے میں آگاہی حاصل ہوگی۔ سوال:ولایت رقہ کی