عن الكتاب
حربی کافروں کو دعوت دینے کے احکام الحمد لله رب العالمين والصلاة والسلام على خاتم الأنبياء والمرسلين محمد وعلى آله وصحبه أجمعين أما بعد: اِس مقالےمیں ہم کفارِ اصلی کو قتال سے قبل اسلام کی دعوت دینےکے احکامات بیان کریں گے اور یہ کہ جن لوگوں کو دعوت نہیں پہنچی اُن کو قتال سے پہلے دعوت دینے کا کیا حکم ہے اورجنہیں دعوت پہنچ چکی ہے اُن کو قتال سے پہلے دعوت دینے کا کیا حکم ہے؟ ۔ اِسی طرح ،جس نے دین اسلام کے بارے میں پہلے سن رکھا ہو اُس کو دعوت دیے بغیر اُس سے فوراً قتال کرنے کے دلائل بھی ہم واضح کریں گے۔نیز ہم یہ بھی واضح کریں گے کہ جن کافروں کو دعوت نہیں پہنچی اُنکے قتل کا کیا حکم ہے اور یہ احکام مرتدین پر لاگو ہوتے ہیں یا نہیں۔ حربی کافروں کو دعوت دینے کے احکام یہاں حربی کفار سے مراد وہ کافر ہیں جنہیں اہلِ اسلام نے عہد ، امان اور ذمہ کے ذریعے امن کی ضمانت نہ دی ہو اور اُن کو دعوت دینے سے مراد یہ ہے کہ قتال کرنے سے پہلے اُنہیں اسلام قبول کرنے یا جزیہ دینے کی طرف بلایا جائے۔ فقہا ءنے یہ بیان کیا ہے کہ اُن کو دعوت دینے کی دو اقسام ہیں : دعوت ِ حقیقی اور دعوت ِحکمی ۔ دعوت ِ حقیقی کا معنی قتال ش